منصوبہ بندی کا فقدان ترقی کی راہ میں سب سے بڑی ر کاوٹ ہے:صوبائی وزیر خزانہ

لاہور22جنوری: صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے کہا ہے کہ موزوں منصوبہ بندی کا فقدان ترقی کی راہ میں سب سے بڑی ر کاوٹ ہے ورنہ پنجاب میں فنڈز کی کمی ہے اور نہ ڈونرز کی۔جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف پلاننگ کے عمل میں بہتری لائی جا سکتی ہے اس کے موثر اطلاق کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہم پبلک سیکٹر کی استعدادکار میں اضافے کے ذریعے مانیٹرنگ کے عمل کو بہتر بنائیں اور نتائج کے تخمینے کے بعد عملدرآمد کا فیصلہ کیا جائے۔ تحریک انصاف کی تبدیلی کا تمامتر ایجنڈہ ایسی ہی اصلاحات سے متعلق ہے ۔ پالیسی سازی ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں سٹیک ہولڈز اور اکیڈیمیا کی شمولیت ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ایک مقامی ہوٹل میں محکمہ خزانہ پنجاب، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ ، انٹرنیشنل گروتھ سینٹر اور سی ڈی پی آر کے اشتراک سے پنجاب میں ترقی کے لیے نئی ترجیحات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار کے پہلے سیشن سے خطاب کے دوران کیا ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب کی آئندہ پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ بندی کی بنیاد زراعت اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ پر رکھی گئی ہے۔ پبلک سیکٹر میں سب سے مشکل مرحلہ فیصلہ سازی ہے جس میں بیوروکریسی انجن کا کردار ادا کرتی ہے۔پبلک سیکٹرکی استعداد کار میں اضافے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو متحرک کیا جا رہا ہے ۔ کاروبار میں آسانی کے حوالے سے متعدد ریفارمز متعارف کروائی جا رہی ہے۔ بزنس پورٹل پر کام کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ SMEsکے فروغ کے لیے سرمایہ کاری میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ سیکرٹری فنانس شیخ حامد یعقوب نے اپنے خطاب میں ڈویلپمنٹ پروجیکٹس میں مالی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور بجٹ کی تیاری کے نئے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں ڈویلپمنٹ اور نان ڈویلپمنٹ کی تخصیص کو ختم کیا جا رہا ہے اور محکموں کو وسائل میں اضافے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری کے لیے ماہرین سے مشاورت کے مواقع مہیا کیے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں مختلف محکمے مڈٹرم بجٹ ری فریم ورک MTBF کی تیاری کا آغاز کر چکے ہیں۔ چےئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ حبیب گیلانی نے کہا کہ ماضی میں انفراسٹریکچر پر غیر متناسب اخراجات کی وجہ سے سوشل سیکٹر کا بجٹ بری طرح متاثر ہوا جس کی وجہ سے صوبے کے کڑوڑوں عوام کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔ موجودہ حکومت کی پہلی ترجیح سوشل سیکٹر ہے۔مستقبل میں سوشل سیکٹر کی ترقی ہی صوبے کی خوشحالی کا سبب بنے گی۔چےئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے شرکاء کو بتایا کہ پنجاب کی آئندہ پانچ گروتھ سٹریٹجی خالصتاً زمینی حقائق کے مطابق ماہرین معاشیات کی تحقیق کی روشنی میں تیار کی گئی ہے جو نہ صرف عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے گی بلکہ صوبے کے معاشی مستقبل کو بھی محفوظ بنائے گی ۔ سیمینار میں ڈاکٹر ماہر معاشیات ڈاکٹر غلام بنی، ولڈ بنک کے کنٹری ہیڈ پیچاموتھو اعلانگون Patchamuthu Illangovan) ( ،پنجاب میں ڈیفڈ کے نمائندے جنال شاہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر غلام نبی نے کہا کہ اکانومی کی موجودہ صورتحال میں کوئی ایک حکومت قصور وار نہیں بلکہ یہ تاریخی سلسلہ ہے جو کئی ادوار سے چلا آ رہا ہے موجودہ حکومت معاشی بحران کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات اُٹھا رہی ہے ۔ مالی خلاء کو پورا کرنے کے لیے سبسڈی کو بوجھ کو کم کرنا ہوگا ۔ ورلڈ بنک کے کنٹری ہیڈ نے کہا کہ خطے معاشی ترقی کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ، بیوروگریسی اور حکومت کو ملکر آگے بڑھنا ہو گا۔ جنال شاہ نے کہا کہ پاکستان کو پاک چائنا اکنامک کاریڈور کو صرف چائنا کے لیے نہیں خود اپنے لیے بھی سود مند بنانا ہو گا اور سی پیک سے بھرپور استفادے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے پروجیکٹس کی بنیاد حقیقی شواہد پر رکھے اور سکلز ڈویلپمنٹ کو فروغ دے۔ صوبائی وزیر نے سیمینار میں ماہرین اور مختلف جامعات ریسرچ سکالرز کی جانب سے ملنے والے فیڈ بیک اور تنقید کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پالیسی سازی میں معاون قرار دیا اور مستقبل میں ایسے مزیدسیمینارز کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا

Email This Post

آپ یہ بھی پسند کریں گے مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.