گزشتہ سال ارب پتی افراد کی دولت میں ایک دن میں 2.5 بلین ڈالر کااضافہ جبکہ غریبوں کی دولت میں کمی دیکھی گئی، آکسفیم کی نئی رپورٹ میں انکشاف

رپورٹ کے مطابق دنیا کے 26 امیر ترین افراد کے پاس اتنی دولت ہے جو تقریبا 3.8 بلین افراد کے پاس کل دولت ہے
آکسفیم اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈیی پی آئی ) کی طرف سے مشترکہ طور پر منظم کی گئی ایک تقریب میں آکسفیم کی نئیعالمی عدم مساوات کی سالانہ رپورٹ کا اجر ا ء اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا ۔ رپورٹ جس کا عنوان ’ پبلک گڈ or پرائیویٹ ویلتھ ‘ کی مطابق امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق غربت کے خلاف جنگ اور ہماری معیشتوں کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر عوامی غصے میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح حکومت عوامی بھلائی کے کاموں ، جیسا کہ صحت اور تعلیم، پر خرچ کم کر کے، اور کارپوریشنوں اور امیر وں پر کم ٹیکس لگا کے کس قدر عدم مساوات کو بڑھاوا سی رہی ہے۔ رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بڑھتی ہوئی اقتصادی عدم مساوات سے خواتین اور لڑکیوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے پاکستان میں آکسفیم کے کنڑری ڈائریکٹر نے کہا’ اس عالمی رپورٹ کے اہم موضوعات میں شامل : اقتصادی عدم مساوات؛ ٹیکس ۔ انفرادی اور کارپوریٹ؛ جنس؛ عدم مساوات اورناکافی عوامی خدمات کے لے فنڈز کے منفی اثرات ؛ اور جنسی مساوات کے لئے عوامی خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفت صحت کی سہولیات ، تعلیم اور دیگر عوامی خدمات خصوصاََ خواتین اور لڑکیوں کے لئے بہت ضروری ہیں۔ پاکستان میں سب کے لئے سماجی تحفظ کو یقینی بنانا اور تمام عوامی خدمات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا مزید کہا کہعدم مساوات ایک انسان ساختہ تباہی ہے جو اربوں افراد کو متاثر کرتی ہے۔
رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ مالیاتی بحران کے بعد سے ارب پتی افراد کی تعداد میں د دو گنا اضافہ ہوا ہے، اور 2017-18کے درمیان ہر دو دن میں ایک نیا ارب پتی پیدا ہوا ہے ، حالانکہ امیر افراد اور کارپوریشنوں نے پچھلی کئی دہائیوں کی نسبت کم ٹیکس کی ادائیگی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 26 امیر ترین افراد کے پاس اتنی دولت ہے جو تقریبا 3.8 بلین افراد کے پاس کل دولت ہے جو پوری دنیا کے کل غریب افراد کا نصف ھصہ بنتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق امیر ترین افراد ٹیکس چوری کی مد میں ٹیکس حکام سے تقریباََ 7.6 ٹریلین ڈالر چھپایا ہوا ہے ، جس سے ترقی پذیر ممالک کو سالانہ 170 بلین ڈالر سے محروم ہونا پڑا ہے۔
پاکستان میں عدم مساوات کے موضوع پر پینل کے مباحثے کے دوران، معروف معیشت دان ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ ہم نے دو پاکستان کی تشکیل کی ہے ؛ ایک امیر اور طاقت ور کے لیے اور دوسرا غریب اور کنزور کے لیے ۔ انہوں نے کہا جہاں امیر ترین افراد بے تہاشہ دولت کے مزے لوٹ رہے ہیں اسی جگہ وہ ٹیکس کی چھوٹ سے بھی استفاضہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر پینلسٹسٹ میں شامل ڈاکٹر اکرام الحق اور مشرف زیدی نے بھی اپنی اپنی رائے کا اؓظہار کیا۔ .
ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ حکومتوں کو عام شہریوں کو سننا چاہئے اور عدم مساوات پر پائیدار ڈویلپمنٹ گول 10 (SDG-10)کے تحت عدم مساوات کو کم کرنے کے لئے ٹائم باؤنڈ اہداف اور مضبوط اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔
عالمی عدم مساوات پر بات کرتے ہوئے، آکسفیم کے ایشیا عدم مساوات مہم کے لیڈ مصطفی تالپور نے کہا کہ ہم حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بے روزگاری ختم کرنے کے اقدامات کرے، لوگوں تک مفت صحت اور تعلیم کی سہولیات کے ساتھ ساتھ دیگر عوامی سہولیات بھی فراہم کرے ۔ اس کو ممکن بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ارب پتی افراد اور کارپوریشنز اپنے اپنے حصے کا منصفانہ ٹیکس ادا کریں جس سے امیر اور غریب ، خواتین اور مردوں کے درمیان فرق میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے۔

Email This Post

آپ یہ بھی پسند کریں گے مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.