دوستوں ، ادبی ساتھیوں اور فیملی ممبران نے فہمیدہ ریاض اور خالدہ حسین کو ایک تعزیتی ریفرنس میں خراج تحسین پیش کیا 

دوستوں ، ادبی ساتھیوں، فیملی اور سول سوسائٹی کے ممبران نے فہمیدہ ریاض اور خالدہ حسین کو ایک تعزیتی ریفرنس میں خراج تحسین پیش کرتے ہوا کہا کہ دونوں جرات، بہادری اور مزاحمت کی علامات تھیں جنہوں نے معاشرے کے مظلوم طبقے کے حقوق کے لئے اپنی پوری زندگی گزار دی ۔ ان کی تحریریں، شاعری، افسانے ، کہانیاں اور نظمیں معاشرے کی حقیقتوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ دونوں عظیم ادبی شخصیات تھیں جن کے ادب اور معاشرے میں کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وہ ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈیی پی آئی ) کے زیر اہتمام فہمیدہ ریاض اور خالدہ حسین کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس سے کیا۔ تقریب میں محترمہ کشور ناہید، اشفاق سلیم مرزا، ڈاکٹر محمد حمید شاہد، ڈاکٹر فاطمہ حسن، ڈاکٹر نجیبہ عارف، فرخ ندیم ، ڈاکٹر حمیرا اشفاق، طاہرہ عبداللہ، احمد سلیم اور ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مشہور شاعرہ کشور ناہید نے کہا کہ فہمیدہ ریاض قدامت پرست خیالات کے خلاف تھی جو اس کی تحریروں اور شاعری سے بھی واضع ہوتا ہے ۔ اس کے افسانوں اور شعاعری عام طور پرسماجی اور سیاسی حالات کے گرد گھومتی ہے ۔ خالدہ حسین کے لئے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کشور ناہید نے کہا کہ ادب میں اس کا بڑا نام ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خالدہ حسین کے ہر ایک ناول اور افسانہ معاشرے کے مختلف اور حقیقی پہلو اُجاگر کرتا ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پائیدار ترقی اور پائیدار معاشرہ کا قیام فہمیدہ ریاض اور خالدہ حسین جیسے قابل ذکر ادبی کرداروں کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ادبی کرداروں کے کام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ ادبی کردار مظلوم خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھاتے تو آج ہمارا معاشرہ بہت پیچھے رہے جاتا۔ ایس ڈی پی آئی کے سینئر مشیر تعلیم اور مذہبی امور احمد سلیم نے کہا کہ ان عظیم ادبی شخصیات کے کام اور معاشرے کی مثبت تعمیر میں کردار کو کو تسلیم کرنا چاہے اور نئی نسل کواس سے آگاہی ہونی چاہیے۔
معروف مصنف حمید شاہد نے کہا کہ فہمیدہ ریاض اور خالدہ حسین دو مختلف لیکن زندگی اور تخلیق سے بھرپور خواتین تھیں۔ انہوں نے کہا کہ خالدہ حسین کی زندگی تحریک، مزاحمت اور مظاہروں کے گرد گھومتی ہے ۔ اس نے اپنی سوچ اور نظریات پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خالدہ حسین کو سمجھنا ہو تو اس کے لیے ان کا ایک افسانہ ’دادی جان آج چھٹی پر ہیں ‘ کو پڑھنا چاہئے ، جو ان کے افسانوں میں ایک شاہکار ہے۔ .جبکہ فہمیدہ ریاض کا افسانہ نگاری میں کام نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ‘جھنو کو چھٹی ملی ‘ ان کی سب سے عمدہ تخلیق ہے جس میں معاشرے کی حقیقی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ ہمیں ان دو عظیم خواتین کا شکر گزار ہونا چاہئے جنہوں نے ہمیں اپنے تحریروں، افسانوں، شعروں اور نظموں کے ذریعہ طاقتور بنایا ۔
خالدہ حسین کی بیٹی یاسرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ماں ایک رحمدل ، نرم مزاج اور بہادر عورت تھی۔ اس نے کہا کہ اس کی ماں فیمنسٹ نہیں تھی لیکن و ہ عورت کو مضبوط اور طاقتور دیکھنا چاہتی تھی۔ ترقی پسند مصنف اشفاق سلیم مرزا نے کہا کہ فہمیدہ ریاض سے میرا پہلا تعارف ان کے ادبی مجموعہ ’بدن دریداں اور پتھر کی زبان ‘ شامل ہیں سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کہ فہمیدہ ریاض اور ر خالدہ حسین ان ادبی شخصیات میں شامل ہیں جن کے کام کو ہمیشہ یاد رکھا جا ئے گا۔

Email This Post

آپ یہ بھی پسند کریں گے مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.