انسانی برادری جنگ کے ہر نعرے ، ہر لفظ کو مسترد کردے : پوپ فرانسس

رومن کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے کہا ہے کہ کسی بھی دین کے نام پر تشدد کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور اس کی کسی تردد کے بغیر مذمت کی جانی چاہیے۔انسانی برادری کو جنگ کے ہر نعرے اور ہر لفظ کو مسترد کردینا چاہیے۔عرب ٹی وی کے مطابق وہ ابو ظبی کے تاریخی دورے کے موقع پر انسانی برادری کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں یا تو مل جل کر مستقبل کی تعمیر کرنا ہوگی یا پھر ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔اب وقت آگیاہے کہ مذاہب زیادہ حوصلے اور دلیر ی کے ساتھ اپنا فعال کردار ادا کریں اور وہ کسی لاگ لپٹ کے بغیر انسانی خاندان کی مدد کریں ،مصالحت ، امید کے وڑن اور امن کی ٹھوس راہوں کے لیے اس کی صلاحیت میں اضافہ کریں ۔پاپائے روم نے اپنی تقریر میں کہاکہ انسانی برادری کو جنگ کے ہر نعرے کو مسترد کردینا چاہیے۔انسانی برادری ہم سے، دنیا کے مذاہب کے نمایندوں کی حیثیت سے یہ تقاضا کرتی ہے اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم لفظ جنگ کے کسی بھی معنی اور استعارے کو مسترد کردیں۔ میں بالخصوص یمن ، شام ، عراق اور لیبیا کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔انھوں نے ناصحانہ انداز میں کہا کہ ثقافت میں سرمایہ کاری سے نفرت میں کمی کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔اس سے تہذیب اور خوش حالی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔تعلیم اور تشدد ایک دوسرے کے باہم مخالف ہیں۔کیتھولک اسکولوں کو اس ملک اور خطے میں سراہا گیا ہے اور وہ تشدد سے بچاؤ کے لیے امن کی تعلیم دے رہے ہیں۔اس مذہبی اجتماع میں دنیا کے بائیس عقیدوں کے مذہبی قائدین سمیت سات سو سے زیادہ مندوبین شریک تھے۔ان میں علماء ، دانشور، محققین اور ماہرین تعلیم شامل تھے۔ لبنان سے تعلق رکھنے والے دانشور رضوان السیّد نے کانفرنس سے اپنے خطاب میں علماء اور دانشوروں پر زور دیا کہ وہ مصالحت کی اس صلاحیت کو مزید وسعت دیں۔انھوں نے کہا کہ ہم گذشتہ ایک سو سال سے جاری ایک جنگِ عظیم ہار چکے ہیں اور یہ مغرب کا ہمارے بارے میں نقطہ نظر اور ہمارا مغرب کے بارے میں نقطہ نظر ہے۔ہم یہ ثابت کرنے کے لیے جنگ آزما ہیں کہ ہم ان ہی کی طرح ہیں اور صرف تاریخ ہی نہیں بلکہ تہذیب میں بھی ان کے ساجھی ہیں۔ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کی وجہ سے ہار گئے ہیں۔اب دانش وروں اور اسکالروں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس پر کام کریں۔رضوان السیّد نے پاپائے روم کے نقطہ نظر کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ متعدد کیتھولک ، عرب اور مسلم ممالک نے پہلے ہی ویٹی کن کے ساتھ مل کر غربت ، عالمی حدت اور بیماریوں کے خلاف جنگ کے منصوبوں پر کام شروع کررکھا ہے۔انھوں نے کہاکہ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یورپی اسلام کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کرلیں گے یا وہ پوپ کے مؤقف اور سوچ کی وجہ سے مہاجرین کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل کرلیں گے لیکن مجھے یقین ہے کہ آیندہ برسوں کے دوران میں پوپ کے الفاظ یورپیوں پر ضرور اپنا اثر دکھا کررہیں گے۔پاپائے روم اور جامعہ الازہر ، قاہرہ کے شیخ ڈاکٹر احمد الطیب نے ابو ظبی میں ا س موقع پر ایک مشترکہ سمجھوتے پر دست خط بھی کیے ہیں۔ اس میں انتہا پسندی سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس سمجھوتے کی تین نقول پر دست خط کیے گئے ہیں۔ان میں ایک نقل ویٹی کن ، ایک الازہر اور ایک متحدہ عرب امارات کے لیے تھی۔پوپ فرانسیس 800 سال کے بعد جزیرہ نما عرب کا دورہ کرنے والے پہلے پاپائے روم ہیں۔ان سے پہلے ان ہی کے ہم نام سینٹ فرانسیس السیسی نے تیرھویں صدی میں مصر کے سلطان سے ملاقات کی تھی۔ پوپ فرانسیس مذہبی پیشوائیت پر فائز ہونے کے بعد سے اسلام اور عیسائیت کو ایک دوسرے کے قریب تر لانے کے لیے کوشاں ہیں اور وہ اپنے پیغامات میں مذہبی رواداری ، انصاف اور امن کے اصولوں پر زور دے رہے ہیں۔انھوں نے مذہبی قائدین کے اجتماع میں نوجوانوں کو بھی پیغام دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت نوجوان منفی پیغامات میں گھِرے ہوئے ہیں اور انھیں مادیت پرستی ، نفرت اور تعصب سے دور لے جانے کی ضرورت ہے۔پاپائے روم نے کہاکہ انھیں ( نوجوانوں کو ) ناانصافی اور ماضی کے درد ناک تجربات کے توڑ کے لیے سیکھنے کی ضرورت ہے۔انھیں یہ تربیت دینے کی ضرورت ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق کا دفاع بالکل ایسے کریں جیسے وہ اپنے حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔انھوں نے اپنی تقریر میں متحدہ عرب امارات کا حوالہ دیتے کہا کہ یہ ملک ،جہاں ریت اور اسکائی کریپر باہم ملتے ہیں، کرہ ?ارض کے مغرب اور مشرق کے درمیان اور شمال اور جنوب کے درمیان ملاپ کا ایک اہم سنگم رہے گا، یہ ترقی کی جگہ ہے ، جہاں کی مہمان نوازی مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو روزگار مہیا کرتی ہے۔

Email This Post

آپ یہ بھی پسند کریں گے مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.