فیس بک پر صارفین کا ڈیٹا فروخت کرنے پر ایک اور مقدمہ

 سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اشتہارات دینے والی کمپنیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے صارفین کا ڈیٹا شیئر کرنے پر سکس فار تھری نامی کمپنی نے مقدمہ دائر کردیا ہے۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی ایک کمپنی ’سکس فار تھری‘ نے فیس بک پر صارفین کا ڈیٹا فروخت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کردیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ فیس بک نے اشتہار دینے والے بڑی کمپنیوں کو تیزی سے اوپر آتے حریفوں کی سبقت روکنے کے لیے صارفین کا ڈیٹا شیئر کیا گیا۔

سکس فار تھری نے 7 ہزار صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ بھی داخل کی ہے جس میں سے 4 ہزار صفحات صارفین کے ذاتی ای میلز اور ویب چیٹ پر مشتمل ہیں جب کہ 1200 صفحات ’انتہائی رازدارانہ‘ معلومات پر مشتمل ہیں۔ بانی مارک زکربرگ اور ان کی ٹیم نے مخصوص ڈیٹا اپنے بڑے شراکت داروں کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر شیئر کیا ہے۔

ان دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی آن لائن کمپنی ایمازون کو اشتہارات دینے کی وجہ سے صارفین کے مخصوص ڈیٹا تک رسائی دی جاتی ہے جب کہ نئی ابھرتی کمپنی ’میسج می‘ ایپ کو ڈیٹا دینے سے انکار کردیا جاتا ہے اور ایسا ایمازون کی خوشنودی کے لیے کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب فیس بک نے اس کیس کو بے بنیاد قرار دیا ہے تاہم فیس بک نے عدالت سے ان دستاویز کو سربمہر کرنے کی استدعا بھی کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے دستاویزات کو سیل کردیا تاکہ یہ دستاویز باہر نہ جاسکیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب فیس بک پر ڈیٹا شیئر کرنے کا الزام لگا ہو اس سے قبل 2016 میں برطانوی کنسلٹنگ فرم کیمبرج اینالیٹکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے لیے 87 ملین سے زیادہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا استعمال کیا تھا جب کہ جولائی میں امریکہ کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) نے فیس بک پر صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت اور رازداری میں کوتاہی برتنے پر 5 ارب ڈالرز جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

واضح رہے کہ فیس بک ان کمپنیوں کی فہرست میں بھی شامل ہیں ہے جنہوں نے صارفین کی گفتگو سننے اور جاسوسی کرنے کا اعتراف کیا ہے تاہم بعد میں مارک زگر برک نے یقین دہانی کرائی تھی کہ پیغامات سننے کا عمل بند کردیا گیا ہے۔

Email This Post

آپ یہ بھی پسند کریں گے مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.