جاپانی براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے جدید سیٹلائٹ لے کر مشہور راکٹ خلا میں روانہ

جاپانی براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے جدید سیٹلائٹ لے کر مشہور راکٹ خلا میں روانہ ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا سے اسپیس X فیلکن 9 راکٹ نے 11 دن بعد دوسری بار خلا کی طرف پرواز کی ہے، یہ راکٹ خلا میں موبائل فونز اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے لیے جدید سیٹلائٹ خلا میں چھوڑے گا۔

اس سے قبل فیلکن نائن 5 دسمبر کو خلا میں روانہ ہوا تھا، 4 روز بعد ماحولیات کے بارے میں اہم ڈیٹا لے کر بہ حفاظت واپس آ کر زمین پر لینڈ کر گیا تھا۔

خیال رہے کہ اسپیس ایکس نے رواں سال خلا میں اپنا یہ تیرہواں مشن لانچ کیا ہے، جب کہ فالکن نائن اس سے قبل دو بار خلا کی سیر کر چکا ہے، گزشتہ روز اس نے تیسری بار سیٹلائٹ لے کر خلا میں اڑان بھری، یہ سیٹلائٹ سنگاپور کی ایک کمپنی اور جاپان کی براڈ بینڈ فراہم کرنے والی کمپنی کا ہے۔

یہ ہیوی ویٹ کمیونی کیشن سیٹلائٹ بوئنگ کمپنی کا تیار کردہ ہے، جو جنوبی بحرالکاہل کے 25 ممالک کو جاپانی ’کا بینڈ‘ انٹرنیٹ کوریج دے گا، اور یہ 56 ہائی پاور بیمز سے لیس ہے جو خلا سے موبائل اور براڈ بینڈ سروسز فراہم کرے گا۔

یہ سیٹلائٹ سنگاپور کی کمپنی کیسفک براڈ بینڈ سیٹلائٹس اور جاپانی آپریٹر اسکائی پرفیکٹ کا مشترکہ پروجیکٹ ہے۔ سیٹلائٹ لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ یہ براڈ بینڈ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز مخصوص ممالک میں اسپتالوں اور اسکولوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔

سنگاپور کمپنی کے مالک کا کہنا تھا کہ مذکورہ ممالک میں اگرچہ لوگ آئی پیڈز اور اسمارٹ فونز استعمال کر رہے ہیں تاہم وہ ایک عرصے سے جدید ٹیکنالوجی کا انتظار کر رہے تھے، انھیں ایسے انٹرنیٹ سروسز کا انتظار تھا جو ان کی زندگی کو مزید بہتر بنا سکے۔

Email This Post

آپ یہ بھی پسند کریں گے مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.