آپ کے اینڈروئیڈ فون کا ایکسلرومیٹر آپ کی فون کال سننے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے
اگر آپ کسی ایپلی کیشن کو اپنے مائیکروفون تک رسائی نہ دیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ آپ کی آواز نہیں سن سکتی ہے۔ محققین نے Spearphone کے نام سے ایک اٹیک تخلیق کیا ہے۔ یہ اٹیک اینڈروئیڈ فون کے موشن سنسرز کو استعمال کرتے ہوئے فون کالز اور آپ کی گوگل اسسٹنٹ کے ساتھ بات چیت سن سکتا ہے۔
جب کوئی ایپ انسٹالیشن کے دوران آپ سے فون کے مائیک تک رسائی کی اجازت مانگتی ہے تو یہ آپ کی بات چیت سن سکتی ہے۔تاہم محققین نے اس کا ایک اور طریقہ دریافت کیا ہے۔
جدید سمارٹ فونز میں ایکسلرومیٹرز ہوتے ہیں، جو پتا چلاتے ہیں کہ آپ کتنی تیزی سے حرکت کر رہے ہیں۔ ایکسلرومیٹر فٹ نیس ایپس کے لیےکافی مفید ہوتے ہیں۔اینڈروئیڈ ایپس کو چونکہ ایکسلرومیٹر استعمال کرنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے ماہرین نے اسے جاسوسی کے لیےاستعمال کیا۔
سمارٹ فونز کے لاؤڈ سپیکر ہی ڈیوائس کی باڈی کووائبریٹ کرتے ہیں۔ یہ اس قابل بھی ہوتے ہیں کہ ایکسلرومیٹر کو ہائی جیک کر کے وائبریشن کے نمونے لے سکیں۔
ماہرین نے اپنے اٹیک میں سگنل پروسیسنگ اور مشین لرننگ کو یکجا کر کے وائبریشن کے نمونوں کو تقریریا بات چیت میں بدل دیا۔یہ طریقہ اس وقت بھی کام کرتا ہے جب فون میز پر رکھا ہو اور اس وقت بھی مفید ہے جب فون صارف کے ہاتھوںمیں ہو۔یہ طریقہ اس وقت تک کام کرتا ہے جب فون کے لاؤڈ سپیکر کام کر رہے ہوں۔یعنی صارفین گوگل اسسٹنٹ کے جواب سے آپ کے سوال کے بارے میں جان سکتےہیں۔ فون کال پر دوسرے صارفین کی جوابات سے آپ کی باتوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
موشن سنسر سیمپل ریٹس (وہ فریکوئنسی جس پر ڈیٹا پڑھا جاتا ہے) ابھی کم ہے لیکن ماہرین نے اس سے بھی اچھے نتائج حاصل کیے ہیں۔اس طریقے میں ماہرین نے سپیکر میں بولنے والے صارفین کی جنس اور شناخت کو 90 فیصد اور 80 فیصد درستی سے پتا چلایا ہے۔
تبصرے بند ہیں.