’’وکالت کا شعبہ بہت مقدس ہے‘‘

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کہتے ہیں کہ وکالت کا شعبہ بہت مقدس ہے، وکیل لوگوں کے حقوق کے لیے لڑتا ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے لاہور میں لاء کالج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ وکیل مؤکل کی قانونی جنگ لڑنے کے ساتھ سسٹم میں بہتری کی جنگ بھی لڑتا ہے، کسی بھی معاشرے میں وکیل کا رتبہ مثالی حیثیت رکھتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میرے والد مرحوم نے تقریباً55 سال تک وکالت کی ،وکیل کا پیشہ اتنا قابل احترام ہے کہ جب میرے والد کورٹ اپنی سائیکل پر جاتے تھے تو دوسرے لوگ اپنی سائیکل سے اتر جاتے تھے، میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی عزت دیکھی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جس شعبے کو اختیار کرنے جا رہے ہیں وہاں عزت ہی عزت ہے، برطانیہ کے ایک مشہورجج نے کہا کہ بہتر قانون دان بننے کے لیے تاریخ، ریاضی اور ادب پر عبور ہونا چاہیے، تاریخ پرعبوراس لیے ضروری ہے کہ ہرقانون کسی نےکسی خاص حالات میں بنایا جاتا ہے،ہر قانون تاریخ کے کسی نہ کسی واقعے کی مناسبت سے بنتاہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے دلائل کےلیےبہترین الفاظ کا انتخاب ضروری ہے اور اس کےلیےادب کامطالعہ بہت ضروری ہے، وکالت آج بھی پاکستانی معاشرے کا ایک معزز پیشہ ہے، وکیل اپنے مثالی کردار سے معاشرے میں باوقار مقام حاصل کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ 2007ء سے 2009ء تک وکلاء نے عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کی، وکلاء اپنے کنڈکٹ کو درست کریں تو کوئی ان پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

Email This Post

آپ یہ بھی پسند کریں گے مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.